سالک کا سفر محض خارجی عبادات یا رسمی اعمال کا نام نہیں، بلکہ یہ دل کے اندر ایک مسلسل جدوجہد ہے جس کا اصل سرمایہ صبر ہے۔ صبر وہ چراغ ہے جو سالک کے باطن میں جلتا ہے تو راستے کی تاریکیاں خود بخود چھٹنے لگتی ہیں۔ دراصل صبر کو عام طور پر محض برداشت سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ سالک کے لیے صبر ایک زندہ عبادت، ایک باطنی مجاہدہ اور قربِ الٰہی کا مضبوط وسیلہ ہے۔ جب سالک اس حقیقت کو سمجھ لیتا ہے کہ صبر کمزوری نہیں بلکہ روح کی قوت ہے، تو آزمائشیں اس کے حوصلے کو توڑنے کے بجائے اسے نکھارنے لگتی ہیں۔
صبر۔۔۔۔ اور سالک کے لیے راہ عمل
جواب دیں
