زمرہ جات کے محفوظات: غیر درجہ بند

قوم کے معمار یا قوم کے مجرم…؟ — ایک لرزا دینے والا سوال

گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک وڈیو وائرل ہوئی جس نے ہر حساس دل رکھنے والے پاکستانی کو ہلا کر رکھ دیا۔ علامہ محمد اقبال، جس کی فکر نے غلامی کی زنجیریں توڑنے کے لیے ایک پوری امت کے ذہنوں میں خودی کی آگ بھڑکائی، جس نے خواب دیکھے اور ایک آزاد وطن کے حصول کا تصور دیا، اسی مردِ فکر و دانش کے مجسمے کے ساتھ شرمناک اور تکلیف دہ سلوک کیا گیا۔ چند کم سن بچے مجسمے پر چڑھے ہوئے تھے، اس کے چہرے پر تھپڑ مار رہے تھے، اس کی بے قدری کر رہے تھے، اور المیہ یہ کہ قریب کھڑے بڑے اس تماشے سے نہ صرف لطف اندوز ہو رہے تھے بلکہ ہنس رہے تھے۔ ایک حساس شخص نے جب بچوں سے پوچھا کہ تم ایسا کیوں کر رہے ہو تو جواب ملا: “یہ ہمارے لیے پڑھائی چھوڑ کر گیا ہے!”

پڑھنا جاری رکھیں

عبد اللہ بن حسن بن علی ابن ابی طالب

عبد اللہ بن حسن (شہادت سنہ 61 ھ)، امام حسن مجتبی علیہ السلام کے ان فرزندوں میں سے ہیں جو واقعہ کربلا میں شہید ہوئے۔ روز عاشورا جب امام حسین علیہ السلام میدان جنگ میں تھے تو عبد اللہ نے خود کو مقتل میں پہچا دیا۔ روایت کے مطابق جب ابحر بن کعب نے امام حسین (ع) پر تلوار سے وار کیا تو عبد اللہ نے اپنے چچا کو بچانے کے لئے اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیا۔ تلوار کے وار سے عبد اللہ کا ہاتھ کٹ کر لٹک گیا اور وہ امام کی آغوش میں گر گئے اور حرملہ بن کاہل اسدی نے انہیں اپنے تیر کا نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔

پڑھنا جاری رکھیں

جب باواجی حضورؒ نے انسانیت کی لاج رکھی

جب باواجی حضورؒ نے انسانیت کی لاج رکھی
(ایک سچا واقعہ، 1947ء کے شور و ہنگامے میں روشنی کی ایک کرن)

1947ء کا وہ ہنگامہ خیز زمانہ جب برصغیر کی زمین خون اور آنسوؤں سے تر ہو رہی تھی، جب مذہب، نسل اور انتقام کے نام پر انسان انسان کا دشمن بن چکا تھا — اُس تاریک عہد میں چند روشن دل ہستیاں ایسی بھی تھیں جنہوں نے انسانیت کی لو بجھنے نہیں دی۔ اُن میں سے ایک نام حضرت باواجی بہرام رنیالؒ کا ہے، جنہوں نے اپنے کردار سے ثابت کیا کہ ولایت صرف خانقاہوں تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ میدانِ عمل میں بھی اپنی سچائی منواتی ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

محمود الحق کوثر اور باباجی حضور ناڑویؒ از سید شاکرالقادری

سید محمود الحق کوثر رحمة اللہ علیہ

بہت اچھے موسیقار تھے ۔ ہارمونیم اور گائگی میں پنڈت امر ناتھ ٹھاکر اور پنڈت امبا پرشاد کے شاگرد تھے بہت اعلی ہارمونسٹ ، ستار نواز، طبہ نواز اور کلاسیکی گائک تھے ۔ ہمارے بابا جی حضور ناڑوی رحمة اللہ علیہ کی محافل سماع کی رونق ہوا کرتے تھے ان کے ساتھ حافظ محمد مسکین مرحوم طبلہ پر سنگت کرتے تھے۔ سماع کے دوران کی کیفیات اکثر میں نے حافظ محمد مسکین کی زبانی سنیںــــ ان کا یادگار کلام اور ان کا ہارمونیم اب میرے پاس ہے جو ان کی یاد تازہ کرتا رہتا ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

صاحب زادہ سید محمد نعیم عاصم گیلانی کی گورنر پنجاب سے ملاقات

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم انٹرنیشنل ہیومن رائٹس فورم ہانگ کانگ کے بانی و سربراہ صاحب زادہ سید محمد نعیم عاصم نے اپنے حالیہ دورۂ پاکستان میں گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان سے پنجاب ہاؤس، اسلام آباد میں ایک وفد کے ہم راہ ملاقات کی۔ وفد میں صاحب زادہ سید محمد نعیم عاصم گیلانی کے ساتھ ہانگ کانگ سے ملک آصف، ضلع اٹک پیپلز پارٹی کے صدر سردار اشعر حیات خان اور ملک طارق شامل تھے۔
اس ملاقات کے دوران صاحبزادہ صاحب نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل کی جانب توجہ دلاتے ہوئے سردار سلیم صاحب کو ہانگ کانگ دورے کی دعوت دی تاکہ وہ خود ہانگ کانگ مقیم پاکستانیوں کے حالات سے آگاہ ہوں اور ان کے مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کریں۔ صاحب زادہ نعیم عاصم نے پاکستانی جامعات کے تعلیمی معیار پر بھی گفتگو کی اور گورنر صاحب کو بتایا کہ ہماری جامعات میں کوئی بھی دنیا کی بہتر دو سو جامعات میں بھی شامل نہیں ہوتیں۔
گورنر پنجاب نے پاکستانی جامعات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے صاحب زادہ سید محمد نعیم عاصم گیلانی سے تجاویز پیش کرنے کی گزارش کی۔
گورنر پنجاب نے پاکستانیوں کے مسائل حل کرنے کا بھی وعدہ کیا۔

صاحب زادہ سید محمد نعیم عاصم گیلانی نے گورنر پنجاب کو یہ تجویز فوری طور پر پیش کی کہ انسانی حقوق کے عالمی چارٹر کو نصاب تعلیم میں شامل کیا جائے ۔
اس کے بعد صاحبزادہ سید محمد نعیم عاصم گیلانی نے گورنر پنجاب سے ملاقات کے لیے آئے ہوئے دیگر وفود سے ملاقات کی اور سردار سلیم حیدر خان، سردار اشعر حیات خان اور مدثر نواب ملک کا خصوصی شکریہ بھی ادا کیا۔

سید محمد نعیم عاصم گیلانی کی صوبائی وزیر مجتبی شجاع الرحمن سے ملاقات

پنجاب کے فائنانس منسٹر مجتبی شجاع الرحمن ایک نجی دورے پر ہانگ کانگ تشریف لائے۔ پانچ روزہ اس نجی دورے میں مجتبی شجاع الرحمن صاحبزادہ نعیم عاصم گیلانی صاحب کے مہمان تھے۔ اس مفید دورے میں صاحب زادہ نعیم عاصم گیلانی نے انھیں ہانگ کانگ کی پاکستانی کمیونٹی سے ملوایا۔ انھیں پرتکلف عشائیہ دیا گیا، ہانگ کانگ کے مختلف اہم مقامات کی سیاحت کروائی گئی۔ پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ اس ربط و ضبط کے دوران فائنانس منسٹر صاحب کو ہانگ کانگ کی ترقی اور اچھی معاشی صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے پاکستان میں ہانگ کانگ ماڈل پر معاشی بہتری کے لیے اقدامات کرنے کی تجاویز پیش کی گئیں۔
سید محمد عاصم گیلانی نے اس دوران انھیں آگاہ کیا کہ ہانگ کانگ میں مقیم پاکستانیوں کے دل اپنی مادرِ وطن کے لیے ہمیشہ دھڑکتے رہتے ہیں۔ وہ سبھی پاکستان سے شدید محبت کرتے ہیں اور
پاکستان کو ایشیا میں ایک مضبوط و مستحکم ملک کی صورت میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ انھیں پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے مکمل تعاون اور مدد کی یقین دہانی کروائی گئی۔

صاحبزادہ محمد نعیم عاصم گیلانی نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی ترقی کے لیے معاشی، تعلیمی اور ماحولیاتی بہتری بہت ضروری ہے اور اس کے لیے ان تینوں میدانوں میں ایمرجنسی نافذ کرنا ہوگی تاکہ ہم خطے کے باقی ممالک سے پیچھے نہ رہ جائیں۔

حضرت عبدالعزیز الگیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد سے نقباء و سجادہ نشینان

السید الشیخ صاحب التلوین والتمکین حضرت زین الدین ابن الشریف سید نا محمد شرف الدین بن سیدنا شمس العارفین حضرت شمس الدین بن سیدنا صاحب المسو والسما حسیب النسیب محمد الہتاک ابن الشریف سیدنا الامام التقی المقتدی الاقطار الاعلی المنار الابریز حضرت عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہم بن حضرت محبوب سبحانی قطب ربانی غوث صمدانی شیخ الکل سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ العزیز مسلمانوں کے نقیب اور سرپرست ہوئے۔ انھوں نے اپنی ساری جائیداد درگاہ گیلانیہ اور مدرسہ جد امجد کے لیے ماہ رجب 978 ء میں وقف کر دی۔ آپ 891ھ بغداد کے محلہ باب الشیخ میں پیدا ہوئے۔ آپ نے اپنے زمانہ کے علما سے علوم عقلیہ و نقلیہ حاصل کیے۔ گیلانی خاندان کے سرپرست اور رئیس تھے۔ اوقاف قادریہ کے متولی بھی تھے۔ 914 ھ میں جب ایرانیوں نے بغداد کا محاصرہ کیا تو آپ ایرانیوں کے خلاف اپنی حکومت اور شہر کو بچانے کے لیے نکلے اور بہت زیادہ کوشش کی۔ پھر جب 941 میں جب کہ ایرانیوں کے قبضہ سے بغداد کو عثمانی لشکر واپس لے رہا تھا س وقت بھی آپ نے عثمانی لشکر کی جان و دل سے امداد کی۔ جس پر سلطنت عثمانیہ کو فتح نصیب ہوئی فاتح بادشاہ نے آپ کی خدمت بابرکت مین حاضر ہو کر شکریہ ادا کیا۔ چنانچہ اسی سال 20 رمضان المبارک کو سلطان سلیمان عثمانی معہ اپنی فوج اور دیگر افسران اور مفتی مملکت کے جامع مسجد گیلانیہ میں حاضر ہوئے۔ اور تمام علمائے بغداد کو طلب کیا اور بعد ادائے نمازعصر سند نقابت الاشراف آپ کو عطا فرمائی جو کہ ترکی زبان میں ہے جس کا ترجمہ حسب ذیل ہے:

مفخر السادات المکرم السید الشیخ زین الدین الگیلانی دام سیادتہ صحیح النسب سدات کی تصدیق و توثیق کرنے کے بعد شیخ زین الدین گیلانی دام برکاتہ کو نقابت الاشراف کی سند دیتا ہوں اور وصیت کرتا ہوں کہ شیخ زین الدین گیلانی شہر بغداد کے نقیب الاشراف ہیں اور جو شخص صحیح النسب سادات نہ ہو۔ اور نہ ہی اس کے پاس کوئی فرمان شاہی ہوگا وہ قوم کا سردار اور نقیب نہ سمجھا جائے گا جس شخص کے پاس نقابت الاشراف کی سند ہوگی وہی مستحق شاہی وظیفہ کا ہوگا۔
دستخط السلطان غازی سلیمان خانی قانونی

اس عثمانی سند کے بعد نقابت الاشراف کا سلسلہ جاری ہو گیا۔ چنانچہ خاندان گیلانیہ کے شرفا سلسلہ بہ سلسلہ اس منصب جلیلہ پر فائز ہوتے چلے آرہے ہیں اور تقریبا چار سول سال سے بلا انقطاع آج تک یہ سلسلہ جاری اور قائم ہے اور انشاء اللہ تا قیامت جاری و ساری رہے گا۔ خاندانِ گیلانیہ کے صحیح النسب سادات ہونے کے بہترین ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے؟

ماخوذ از تذکرہ قادریہ، از سیدنا طاہر علاؤ الدین الگیلانی البغدادی۔ ص : 100-102

جاری۔۔۔۔۔۔۔

حضرت حسن مثنی بن امام حسن المجتبی

  1. حسن مثنیٰ کی ولادت: حسن مثنیٰ کی ولادت 12 رمضان، 29ھ قمری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ ان کے والد امام حسن بن علیؑ اور دادا حضرت علی بن ابی طالبؑ تھے۔
  2. خلافت و بیعت: حسن مثنیٰ نے اپنے والد سیدنا امام حسنؑ سے بیعت کی اور خلافت حاصل کی۔ ان کی خلافت کا دور کئی مشکلات اور فتنوں سے بھرا ہوا تھا۔
  3. علمی مقام: حسن مثنیٰ علمی اور دینی معارف کے ماہر تھے۔ انہوں نے حدیث کی تعلیم حاصل کی اور اپنے علمی مقام کو برقرار رکھا۔
  4. مدافعت کربلا میں: حسن مثنیٰ کی شجاعت کا مثال زندگی کی واقعہ کربلا میں دی گئی مدافعت میں آئی۔ انہوں نے حضرت عثمانؑ کی حفاظت کے لئے بھی جان کی قربانی دی اور باغیوں کو روکا۔
  5. نسب نامہ: حسن مثنیٰ کی نسبت امام حسن بن علی بن ابی طالب سے ہے۔ ان کا خاندانی شجرہ حسن بن علی سے شروع ہوکر عدنان تک جاتا ہے۔
  6. حسن مثنیٰ کی زندگی ایک مثالی طریقہ زندگی کا نمائندہ ہے جو اسلامی تاریخ میں اہمیت رکھتی ہے۔