زمرہ جات کے محفوظات: سادات گیلانیہ عزیزیہ

سید شاکرالقادری چشتی نظامی

سید شاکر القادری (پیدائش: 1960ء، اٹک، پاکستان) پاکستانی نعت گو شاعر، محقق، نقاد، خطاط، مترجم اور اردو ٹائپوگرافی کے ماہر ہیں۔وہ فروغِ نعت کے لیے معروف ہیں اور آن لائن نعتیہ پلیٹ فارم فروغِ نعت فیس بک گروپ اور نعت کائنات کے بانی مدیران میں سے ہیں۔ شاکر القادری نے نعتیہ ادب، اردو فونٹ سازی اور سافٹ ویئر کے اردو مقامیانے کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ اردو محفل پر انھوں نے فانٹ سازی اور سافٹ ویرز کو مقامیانے میں قابل قدر خدمات انجام دی ہیں [1][2]

پڑھنا جاری رکھیں

شیخ ابو بکر عبد العزیز بن سیدنا عبدالقادر جیلانی

شیخ ابو بکرعبد العزیزشیخ عبدالقادر جیلانی کے فرزندِ ارجمند ہیں۔ آپ  532ھ بمطابق 1137ء بغداد میں پیدا ہوئے۔آپ کی تعلیم و تربیت اپنے والد ماجد سیدنا غوث الاعظمؒ کے ہی مبارک ہاتھوں میں ہوئی۔ اپنے والد گرامی سے فقہ و حدیث کی تکمیلِ کی۔آپ بلند پایہ مفتی اور واعظ تھے اپنے والد کے مدرسہ میں درس دیتے رہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

خواجہ سید محمد سلیمان گیلانی قادری چشتی نظامی

خواجہ سید محمدسلیمان شاہ گیلانی چشتی نظامی قادری سلسلہ چشتیہ قادریہ کے معروف بزرگان میں شمار ہوتے ہیں۔

تعارف

سید سلیمان شاہ گیلانی یکم اگست 1919ء کو کوئٹہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے بزرگ بغداد شریف سے ہجرت کر کے پہلے افغانستان اور پھر کوئٹہ ( بلوچستان) کے علاوہ صوبہ سرحد کے علاقوں رسالپور، چکنی اور آدم زئی ( نوشہرہ) میں آباد ہو گئے۔ لیکن بیسویں صدی میں کوئٹہ کے مشہور زلزلہ کے بعد آپ کے والد گرامی سید محمد رحیم شاہ ایک میں مقیم ہو گئے اور محکمہ تعلیم میں ملازمت کا آغاز کیا اور خاصے عرصہ تک گورنمنٹ پائلٹ اسکول میں بطور مدرس خدمات انجام دیتے رہے۔[1]

پڑھنا جاری رکھیں

حضرت عبدالعزیز الگیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد سے نقباء و سجادہ نشینان

السید الشیخ صاحب التلوین والتمکین حضرت زین الدین ابن الشریف سید نا محمد شرف الدین بن سیدنا شمس العارفین حضرت شمس الدین بن سیدنا صاحب المسو والسما حسیب النسیب محمد الہتاک ابن الشریف سیدنا الامام التقی المقتدی الاقطار الاعلی المنار الابریز حضرت عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہم بن حضرت محبوب سبحانی قطب ربانی غوث صمدانی شیخ الکل سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ العزیز مسلمانوں کے نقیب اور سرپرست ہوئے۔ انھوں نے اپنی ساری جائیداد درگاہ گیلانیہ اور مدرسہ جد امجد کے لیے ماہ رجب 978 ء میں وقف کر دی۔ آپ 891ھ بغداد کے محلہ باب الشیخ میں پیدا ہوئے۔ آپ نے اپنے زمانہ کے علما سے علوم عقلیہ و نقلیہ حاصل کیے۔ گیلانی خاندان کے سرپرست اور رئیس تھے۔ اوقاف قادریہ کے متولی بھی تھے۔ 914 ھ میں جب ایرانیوں نے بغداد کا محاصرہ کیا تو آپ ایرانیوں کے خلاف اپنی حکومت اور شہر کو بچانے کے لیے نکلے اور بہت زیادہ کوشش کی۔ پھر جب 941 میں جب کہ ایرانیوں کے قبضہ سے بغداد کو عثمانی لشکر واپس لے رہا تھا س وقت بھی آپ نے عثمانی لشکر کی جان و دل سے امداد کی۔ جس پر سلطنت عثمانیہ کو فتح نصیب ہوئی فاتح بادشاہ نے آپ کی خدمت بابرکت مین حاضر ہو کر شکریہ ادا کیا۔ چنانچہ اسی سال 20 رمضان المبارک کو سلطان سلیمان عثمانی معہ اپنی فوج اور دیگر افسران اور مفتی مملکت کے جامع مسجد گیلانیہ میں حاضر ہوئے۔ اور تمام علمائے بغداد کو طلب کیا اور بعد ادائے نمازعصر سند نقابت الاشراف آپ کو عطا فرمائی جو کہ ترکی زبان میں ہے جس کا ترجمہ حسب ذیل ہے:

مفخر السادات المکرم السید الشیخ زین الدین الگیلانی دام سیادتہ صحیح النسب سدات کی تصدیق و توثیق کرنے کے بعد شیخ زین الدین گیلانی دام برکاتہ کو نقابت الاشراف کی سند دیتا ہوں اور وصیت کرتا ہوں کہ شیخ زین الدین گیلانی شہر بغداد کے نقیب الاشراف ہیں اور جو شخص صحیح النسب سادات نہ ہو۔ اور نہ ہی اس کے پاس کوئی فرمان شاہی ہوگا وہ قوم کا سردار اور نقیب نہ سمجھا جائے گا جس شخص کے پاس نقابت الاشراف کی سند ہوگی وہی مستحق شاہی وظیفہ کا ہوگا۔
دستخط السلطان غازی سلیمان خانی قانونی

اس عثمانی سند کے بعد نقابت الاشراف کا سلسلہ جاری ہو گیا۔ چنانچہ خاندان گیلانیہ کے شرفا سلسلہ بہ سلسلہ اس منصب جلیلہ پر فائز ہوتے چلے آرہے ہیں اور تقریبا چار سول سال سے بلا انقطاع آج تک یہ سلسلہ جاری اور قائم ہے اور انشاء اللہ تا قیامت جاری و ساری رہے گا۔ خاندانِ گیلانیہ کے صحیح النسب سادات ہونے کے بہترین ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے؟

ماخوذ از تذکرہ قادریہ، از سیدنا طاہر علاؤ الدین الگیلانی البغدادی۔ ص : 100-102

جاری۔۔۔۔۔۔۔