زمرہ جات کے محفوظات: اولاد امام حسن مجتبی

عبد اللہ بن حسن بن علی ابن ابی طالب

عبد اللہ بن حسن (شہادت سنہ 61 ھ)، امام حسن مجتبی علیہ السلام کے ان فرزندوں میں سے ہیں جو واقعہ کربلا میں شہید ہوئے۔ روز عاشورا جب امام حسین علیہ السلام میدان جنگ میں تھے تو عبد اللہ نے خود کو مقتل میں پہچا دیا۔ روایت کے مطابق جب ابحر بن کعب نے امام حسین (ع) پر تلوار سے وار کیا تو عبد اللہ نے اپنے چچا کو بچانے کے لئے اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیا۔ تلوار کے وار سے عبد اللہ کا ہاتھ کٹ کر لٹک گیا اور وہ امام کی آغوش میں گر گئے اور حرملہ بن کاہل اسدی نے انہیں اپنے تیر کا نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔

پڑھنا جاری رکھیں

محمد بن عبد الله بن الحسن بن الحسن بن علي بن أبي طالب نفس الزکیہ

محمد بن عبد الله بن الحسن بن الحسن بن علي بن أبي طالب، نفس الزکیہ  عباسی دور کے ایک فاطمی سادات کے امام تھے۔ جنھوں نے المنصور کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔[2] تحریک عباسی کے دوران میں عباسیوں۔ فاطمیوں اورعلویوں نے مل جل کر کام کیا۔ فاطمیوں کو یقین تھا کہ کامیابی کے بعد خلافت ان کے سپرد کر دی جائے گی لیکن ایسا ممکن نہ ہو سکا اور عباسیوں نے کامیابی کے بعد اپنی خلافت کا اعلان کر کے سفاح کو پہلا خلیفہ نامزد کر دیا۔ اس پر فاطمیوں کو بڑی مایوسی ہوئی۔[3] اس وقت فاطمی سادات میں سے دو شخصیات نہایت اہم تھیں۔ اولاً حضرت امام جعفر صادق جو حضرت امام حسین کی اولاد میں سے چھٹے امام تھے اور اپنے زہد و اتقاء اور روحانی کمالات کی بدولت عوام میں بہت مقبول تھے وہ بڑے درویش صفت انسان تھے۔[4] انھوں نے خلافت کی کبھی تمنا نہیں کی تھی اور اپنے پیروکاروں کو بھی اس سے منع کرتے رہتے تھے۔ لیکن دوسری شخصیت امام محمد نفس الزکیہ کی تھی جو حضرت حسن کی چوتھی پشت میں سے تھے ۔[5] وہ اپنی پاکبازی اور پرہیزگاری کی بدولت عوام میں بڑی قدرومنزلت اور مقبولیت کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔ امام جعفر صادق کی خاموشی کے مقابلہ میں وہ خلافت کے لیے پرجوش تھے اور ابوجعفر منصور ان کی شخصیت اور عزائم کی بنا پر ان سے سخت خائف تھا اور انھیں اپنا مدمقابل سمجھتا تھا۔[6]

اہل مدینہ کی بیعت

بنو امیہ کے خلافت کے آخری ایام میں جب عباسی دعوت کی کامیابی کے امکانات روشن نظر آنے لگے تو مدینہ منورہ میںبنو ہاشم کے سرکردہ لوگوں کاایک اجتماع ہوا تھا جس میں السفاح اورابوجعفر منصور دونوں شامل تھے۔[7] یہ اصول تسلیم کر لیا گیا تھا کہ کامیابی کی صورت میں امام محمد نفس الزکیہ خلیفہ ہوں گے اس موقع پر اہل مدینہ کے صائب الرائے لوگوں نے بھی اس بات کی تائید کر دی تھی۔ لیکن جونہی عباسی بامراد ہوئے انھوں نے اس فیصلے کو پس پشت ڈال کر عبد اللہ السفاح کو منصب خلافت پر فائز کر دیا۔ لہذا امام محمد نفس الزکیہ نے السفاح کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا۔ اہل مدینہ نے اپنے پرانے موقف پر قائم رہتے ہوئے امام محمد کی بیعت کرکے ان کو خلیفہ تسلیم کر لیا۔ سفاح نے اس موقع پر حکمت عملی سے کام لیا اور امام محمد نفس الزکیہ پر اپنے احسانات جتا کر انھیں اپنے ارادے باز رکھنے کی درخواست کی چنانچہ امام محمد نے سفاح کے عہد تک اس معاملہ میں خروج سے گریز کیا۔[8]

پڑھنا جاری رکھیں

حضرت حسن مثنیٰ کی اولاد

حسن‌ بن‌ حسن‌ بن‌ علی بن ابی‌ طالب (حیات تا سنہ 85 ھ)، حسن مثنی کے نام سے معروف، امام حسن علیہ السلام کے بیٹے ہیں۔ جن کی شادی امام حسین علیہ السلام کی بیٹی فاطمہ سے ہوئی۔ آپ حسنی / حسینی سادات کے بزرگ سمجھے جاتے ہیں۔

حسن مثنی کربلا کے میدان میں زخمی ہوئے اور آپ کے ماموں اسماء بن خارجہ فزاری کی حفاظت میں آئے۔ کوفہ میں انہی کی نگرانی میں صحت یاب ہوئے۔ اس کے بعد کوفہ سے مدینہ واپس آگئے۔

حجاج بن یوسف کے خلاف عبد الرحمان بن محمد بن اشعث کی شورش میں آپ نے عبد الرحمان کا ساتھ دیا۔ حسن مثنی اپنے زمانِ حیات میں حضرت علی علیہ السلام کے موقوفات کے متولی تھے۔۔ زیدیہ مکتب کے بعض مآخذ اور ملل و نحل کے علما نے انہیں زیدیوں کا امام قرار دیا ہے۔

آپ کے والد امام حسنؑ شیعوں کے دوسرے امام ہیں۔ آپ کی والدہ کا نام خَوْلَہ بنت منظور بن زَبّان فَزاری تھا۔[1] سنہ 36 ھ میں محمد بن طلحہ بن عبید اللہ کے جنگ جمل میں قتل ہونے کے بعد امام حسنؑ کے عقد میں آئیں۔[2] حسن مثنی کی کنیت ابو محمد تھی[3]۔

ازواج و اولاد

امام حسینؑ کی بیٹی فاطمہ آپ کی زوجہ تھیں۔ امام حسین نے واقعہ کربلا سے پہلے اپنی بیٹی کا عقد حسن مثنی سے کیا۔[4] جس کی تفصیل درج ذیل ہے:

حسن مثنی نے امام حسین ؑ سے ان کی بیٹیوں میں سے ایک بیٹی کا رشتہ مانگا۔[5] امام نے فرمایا: میری بیٹیوں فاطمہ اور سکینہ میں سے جسے چاہو انتخاب کر سکتے ہو۔ حسن مثنی نے شرم کی وجہ سے کچھ نہ کہا۔ لیکن امام نے فاطمہ کا عقد حسن مثنی سے کر دیا۔[6] ابن فندق کے بقول یہ شادی امام حسینؑ کی شہادت کے سال انجام پائی۔[7] امام حسینؑ کی شہادت سنہ 61 ہجری کی 10 محرم کو ہوئی۔ اس لحاظ سے زیادہ احتمال یہی ہے کہ عاشورا سے کچھ مدت پہلے 60 ہجری میں ہی مکہ میں انجام پائی۔ پس اس بنا پر حسن مثنی اپنی زوجہ فاطمہ بنت الحسین کے ہمراہ کربلا میں موجود تھے۔[8]

اولاد

حضرت فاطمہ سے ان کی اولاد عبد اللہ محض، ابراہیم عمر، حسن مثلث تھے۔ ان تینوں فرزندوں کی وفات عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور کے زندان میں ہوئی۔[9] پھر ان کے بعد عبد اللہ بن حسن ایک عالم اور ادیب شخص تھے جنہوں نے عباسیوں کے خلاف تحریکوں کی قیادت کی۔[10] نفس زکیہ کے نام سے مشہور ہونے والے محمد اور قتیل باخَمْرا کے نام سے مشہور ابراہیم بھی ان کی نسل میں سے ہیں۔

حسن مثنی کی اولاد کے بارے میں معلومات یہ ہیں:

 

حضرت امام حسن المجتبیٰ کی اولاد

 

فایل لایه باز تصویر ولادت امام حسن مجتبی (ع) / حسن بن علی المجتبی | عصر ...

الف. پسران: ابراهیم، ابوبکر، احمد، اسماعیل، جعفر، حسن اصغر، حسن مُثنّی، حمزه، زید، طلحه، عبد الرحمن‏، عبد اللّه‏، عبید اللّه‏، عقیل، عمرو، قاسم، محمد، و یعقوب.(۱)
ب. دختران: ام الحسن، ام الحسین(ام الخیر)، ام سلمه، ام عبد الله، رقیه، و فاطمه.(۲)

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

(۱)

 

طبری آملی، محمد بن جریر، دلائل الامامة، ص 164، قم، بعثت، چاپ اول، 1413ق؛ مناقب آل أبی‌طالب(ع)، ج ‏4، ص 29؛ الإرشاد فی معرفة حجج الله علی العباد، ج 2، ص 20؛ انساب الاشراف، ج ‏3، ص 73.

 

(۲)

 

الإرشاد فی معرفة حجج الله علی العباد، ج 2، ص 20؛ دلائل الإمامة، ص 164؛ اربلی، علی بن عیسی، کشف الغمة فی معرفة الأئمة، ج ‏1، ص 538 – 539، قم، منشورات رضی، چاپ اول، 1421ق؛ أنساب الأشراف، ج ‏3، ص 73. 

حضرت حسن مثنی بن امام حسن المجتبی

  1. حسن مثنیٰ کی ولادت: حسن مثنیٰ کی ولادت 12 رمضان، 29ھ قمری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ ان کے والد امام حسن بن علیؑ اور دادا حضرت علی بن ابی طالبؑ تھے۔
  2. خلافت و بیعت: حسن مثنیٰ نے اپنے والد سیدنا امام حسنؑ سے بیعت کی اور خلافت حاصل کی۔ ان کی خلافت کا دور کئی مشکلات اور فتنوں سے بھرا ہوا تھا۔
  3. علمی مقام: حسن مثنیٰ علمی اور دینی معارف کے ماہر تھے۔ انہوں نے حدیث کی تعلیم حاصل کی اور اپنے علمی مقام کو برقرار رکھا۔
  4. مدافعت کربلا میں: حسن مثنیٰ کی شجاعت کا مثال زندگی کی واقعہ کربلا میں دی گئی مدافعت میں آئی۔ انہوں نے حضرت عثمانؑ کی حفاظت کے لئے بھی جان کی قربانی دی اور باغیوں کو روکا۔
  5. نسب نامہ: حسن مثنیٰ کی نسبت امام حسن بن علی بن ابی طالب سے ہے۔ ان کا خاندانی شجرہ حسن بن علی سے شروع ہوکر عدنان تک جاتا ہے۔
  6. حسن مثنیٰ کی زندگی ایک مثالی طریقہ زندگی کا نمائندہ ہے جو اسلامی تاریخ میں اہمیت رکھتی ہے۔