مصنف کے محفوظات: سید شاکرالقادری چشتی نظامی

جب باواجی حضورؒ نے انسانیت کی لاج رکھی

جب باواجی حضورؒ نے انسانیت کی لاج رکھی
(ایک سچا واقعہ، 1947ء کے شور و ہنگامے میں روشنی کی ایک کرن)

1947ء کا وہ ہنگامہ خیز زمانہ جب برصغیر کی زمین خون اور آنسوؤں سے تر ہو رہی تھی، جب مذہب، نسل اور انتقام کے نام پر انسان انسان کا دشمن بن چکا تھا — اُس تاریک عہد میں چند روشن دل ہستیاں ایسی بھی تھیں جنہوں نے انسانیت کی لو بجھنے نہیں دی۔ اُن میں سے ایک نام حضرت باواجی بہرام رنیالؒ کا ہے، جنہوں نے اپنے کردار سے ثابت کیا کہ ولایت صرف خانقاہوں تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ میدانِ عمل میں بھی اپنی سچائی منواتی ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

خواجہ سید محمد سلیمان گیلانی قادری چشتی نظامی

خواجہ سید محمدسلیمان شاہ گیلانی چشتی نظامی قادری سلسلہ چشتیہ قادریہ کے معروف بزرگان میں شمار ہوتے ہیں۔

تعارف

سید سلیمان شاہ گیلانی یکم اگست 1919ء کو کوئٹہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے بزرگ بغداد شریف سے ہجرت کر کے پہلے افغانستان اور پھر کوئٹہ ( بلوچستان) کے علاوہ صوبہ سرحد کے علاقوں رسالپور، چکنی اور آدم زئی ( نوشہرہ) میں آباد ہو گئے۔ لیکن بیسویں صدی میں کوئٹہ کے مشہور زلزلہ کے بعد آپ کے والد گرامی سید محمد رحیم شاہ ایک میں مقیم ہو گئے اور محکمہ تعلیم میں ملازمت کا آغاز کیا اور خاصے عرصہ تک گورنمنٹ پائلٹ اسکول میں بطور مدرس خدمات انجام دیتے رہے۔[1]

پڑھنا جاری رکھیں

حضرت حسن مثنیٰ کی اولاد

حسن‌ بن‌ حسن‌ بن‌ علی بن ابی‌ طالب (حیات تا سنہ 85 ھ)، حسن مثنی کے نام سے معروف، امام حسن علیہ السلام کے بیٹے ہیں۔ جن کی شادی امام حسین علیہ السلام کی بیٹی فاطمہ سے ہوئی۔ آپ حسنی / حسینی سادات کے بزرگ سمجھے جاتے ہیں۔

حسن مثنی کربلا کے میدان میں زخمی ہوئے اور آپ کے ماموں اسماء بن خارجہ فزاری کی حفاظت میں آئے۔ کوفہ میں انہی کی نگرانی میں صحت یاب ہوئے۔ اس کے بعد کوفہ سے مدینہ واپس آگئے۔

حجاج بن یوسف کے خلاف عبد الرحمان بن محمد بن اشعث کی شورش میں آپ نے عبد الرحمان کا ساتھ دیا۔ حسن مثنی اپنے زمانِ حیات میں حضرت علی علیہ السلام کے موقوفات کے متولی تھے۔۔ زیدیہ مکتب کے بعض مآخذ اور ملل و نحل کے علما نے انہیں زیدیوں کا امام قرار دیا ہے۔

آپ کے والد امام حسنؑ شیعوں کے دوسرے امام ہیں۔ آپ کی والدہ کا نام خَوْلَہ بنت منظور بن زَبّان فَزاری تھا۔[1] سنہ 36 ھ میں محمد بن طلحہ بن عبید اللہ کے جنگ جمل میں قتل ہونے کے بعد امام حسنؑ کے عقد میں آئیں۔[2] حسن مثنی کی کنیت ابو محمد تھی[3]۔

ازواج و اولاد

امام حسینؑ کی بیٹی فاطمہ آپ کی زوجہ تھیں۔ امام حسین نے واقعہ کربلا سے پہلے اپنی بیٹی کا عقد حسن مثنی سے کیا۔[4] جس کی تفصیل درج ذیل ہے:

حسن مثنی نے امام حسین ؑ سے ان کی بیٹیوں میں سے ایک بیٹی کا رشتہ مانگا۔[5] امام نے فرمایا: میری بیٹیوں فاطمہ اور سکینہ میں سے جسے چاہو انتخاب کر سکتے ہو۔ حسن مثنی نے شرم کی وجہ سے کچھ نہ کہا۔ لیکن امام نے فاطمہ کا عقد حسن مثنی سے کر دیا۔[6] ابن فندق کے بقول یہ شادی امام حسینؑ کی شہادت کے سال انجام پائی۔[7] امام حسینؑ کی شہادت سنہ 61 ہجری کی 10 محرم کو ہوئی۔ اس لحاظ سے زیادہ احتمال یہی ہے کہ عاشورا سے کچھ مدت پہلے 60 ہجری میں ہی مکہ میں انجام پائی۔ پس اس بنا پر حسن مثنی اپنی زوجہ فاطمہ بنت الحسین کے ہمراہ کربلا میں موجود تھے۔[8]

اولاد

حضرت فاطمہ سے ان کی اولاد عبد اللہ محض، ابراہیم عمر، حسن مثلث تھے۔ ان تینوں فرزندوں کی وفات عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور کے زندان میں ہوئی۔[9] پھر ان کے بعد عبد اللہ بن حسن ایک عالم اور ادیب شخص تھے جنہوں نے عباسیوں کے خلاف تحریکوں کی قیادت کی۔[10] نفس زکیہ کے نام سے مشہور ہونے والے محمد اور قتیل باخَمْرا کے نام سے مشہور ابراہیم بھی ان کی نسل میں سے ہیں۔

حسن مثنی کی اولاد کے بارے میں معلومات یہ ہیں:

 

حضرت امام حسن المجتبیٰ کی اولاد

 

فایل لایه باز تصویر ولادت امام حسن مجتبی (ع) / حسن بن علی المجتبی | عصر ...

الف. پسران: ابراهیم، ابوبکر، احمد، اسماعیل، جعفر، حسن اصغر، حسن مُثنّی، حمزه، زید، طلحه، عبد الرحمن‏، عبد اللّه‏، عبید اللّه‏، عقیل، عمرو، قاسم، محمد، و یعقوب.(۱)
ب. دختران: ام الحسن، ام الحسین(ام الخیر)، ام سلمه، ام عبد الله، رقیه، و فاطمه.(۲)

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

(۱)

 

طبری آملی، محمد بن جریر، دلائل الامامة، ص 164، قم، بعثت، چاپ اول، 1413ق؛ مناقب آل أبی‌طالب(ع)، ج ‏4، ص 29؛ الإرشاد فی معرفة حجج الله علی العباد، ج 2، ص 20؛ انساب الاشراف، ج ‏3، ص 73.

 

(۲)

 

الإرشاد فی معرفة حجج الله علی العباد، ج 2، ص 20؛ دلائل الإمامة، ص 164؛ اربلی، علی بن عیسی، کشف الغمة فی معرفة الأئمة، ج ‏1، ص 538 – 539، قم، منشورات رضی، چاپ اول، 1421ق؛ أنساب الأشراف، ج ‏3، ص 73. 

حضرت حسن مثنی بن امام حسن المجتبی

  1. حسن مثنیٰ کی ولادت: حسن مثنیٰ کی ولادت 12 رمضان، 29ھ قمری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ ان کے والد امام حسن بن علیؑ اور دادا حضرت علی بن ابی طالبؑ تھے۔
  2. خلافت و بیعت: حسن مثنیٰ نے اپنے والد سیدنا امام حسنؑ سے بیعت کی اور خلافت حاصل کی۔ ان کی خلافت کا دور کئی مشکلات اور فتنوں سے بھرا ہوا تھا۔
  3. علمی مقام: حسن مثنیٰ علمی اور دینی معارف کے ماہر تھے۔ انہوں نے حدیث کی تعلیم حاصل کی اور اپنے علمی مقام کو برقرار رکھا۔
  4. مدافعت کربلا میں: حسن مثنیٰ کی شجاعت کا مثال زندگی کی واقعہ کربلا میں دی گئی مدافعت میں آئی۔ انہوں نے حضرت عثمانؑ کی حفاظت کے لئے بھی جان کی قربانی دی اور باغیوں کو روکا۔
  5. نسب نامہ: حسن مثنیٰ کی نسبت امام حسن بن علی بن ابی طالب سے ہے۔ ان کا خاندانی شجرہ حسن بن علی سے شروع ہوکر عدنان تک جاتا ہے۔
  6. حسن مثنیٰ کی زندگی ایک مثالی طریقہ زندگی کا نمائندہ ہے جو اسلامی تاریخ میں اہمیت رکھتی ہے۔