سالک کا سفر محض خارجی عبادات یا رسمی اعمال کا نام نہیں، بلکہ یہ دل کے اندر ایک مسلسل جدوجہد ہے جس کا اصل سرمایہ صبر ہے۔ صبر وہ چراغ ہے جو سالک کے باطن میں جلتا ہے تو راستے کی تاریکیاں خود بخود چھٹنے لگتی ہیں۔ دراصل صبر کو عام طور پر محض برداشت سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ سالک کے لیے صبر ایک زندہ عبادت، ایک باطنی مجاہدہ اور قربِ الٰہی کا مضبوط وسیلہ ہے۔ جب سالک اس حقیقت کو سمجھ لیتا ہے کہ صبر کمزوری نہیں بلکہ روح کی قوت ہے، تو آزمائشیں اس کے حوصلے کو توڑنے کے بجائے اسے نکھارنے لگتی ہیں۔
سالک کے لیے سب سے پہلا درجہ یہ ہے کہ وہ تقدیر پر رضا اختیار کرے۔ جو کچھ زندگی میں پیش آتا ہے، وہ محض اتفاق نہیں بلکہ حکمتِ الٰہی کا مظہر ہوتا ہے۔ شکایت دل کو بے چین اور روح کو مضطرب کر دیتی ہے، جبکہ رضا دل میں سکون اور یقین پیدا کرتی ہے۔ جب سالک یہ مان لیتا ہے کہ ہر حال میں رب کی مرضی شامل ہے، تو صبر اس کے لیے بوجھ نہیں رہتا بلکہ ایک فطری کیفیت بن جاتا ہے۔ وہ “یہ میرے ساتھ کیوں ہوا؟” کے سوال سے نکل کر “اس میں میرے لیے کیا پیغام ہے؟” کی طرف آ جاتا ہے، اور یہی تبدیلی صبر کو آسان بنا دیتی ہے۔
صبر کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ نفس کی جلد بازی ہے۔ نفس فوری نتیجہ چاہتا ہے، فوراً راحت، فوراً کامیابی اور فوراً تسکین۔ مگر روح کا مزاج تدریج سے وابستہ ہے۔ روح آہستہ آہستہ پروان چڑھتی ہے، ٹھہراؤ میں پختہ ہوتی ہے اور انتظار میں نکھرتی ہے۔ سالک جب ہر مشکل میں یہ سمجھ لیتا ہے کہ جلدی کرنا نفس کی آواز ہے اور ٹھہر جانا روح کا ادب، تو وہ بے صبری کے طوفان سے محفوظ رہتا ہے۔ یہی ضبطِ نفس صبر کو مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔
دل اگر ذکر سے خالی ہو تو صبر کمزور پڑ جاتا ہے۔ اس لیے سالک کے لیے ذکر محض ورد نہیں بلکہ زندگی کی سانس ہے۔ ذکر دل کو بھرتا ہے، خوف کو کم کرتا ہے اور اضطراب کو سکون میں بدل دیتا ہے۔ “یا صبور”، “حسبیَ اللّٰہُ لا اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ” اور “اِنّا لِلّٰہِ وَاِنّا اِلَیْہِ راجِعُون” جیسے اذکار سالک کو یہ یاد دلاتے ہیں کہ وہ اکیلا نہیں، بلکہ ہر حال میں رب کی نگہبانی میں ہے۔ جب دل اللہ کی یاد سے آباد ہو جائے تو صبر خود بخود اس میں ٹھہر جاتا ہے۔
سالک اگر آزمائش کو دشمن سمجھے تو وہ ٹوٹ جاتا ہے، اور اگر اسے استاد مان لے تو وہ سنور جاتا ہے۔ ہر مشکل، ہر محرومی اور ہر انتظار دراصل تربیت کا ایک مرحلہ ہے۔ جو چیز بظاہر صبر کو آزماتی ہے، وہی درحقیقت شعور کو جِلا دیتی ہے۔ صوفیانہ راستے میں آزمائشیں راستے کی دیوار نہیں بلکہ سیڑھیاں ہوتی ہیں، جن پر قدم رکھ کر سالک بلند ہوتا ہے۔
صبر کا ایک اہم پہلو خاموشی اور ضبط بھی ہے۔ ہر دکھ کو زبان پر لانا صبر کو کمزور کر دیتا ہے۔ سالک اپنے شکوے مخلوق کے سامنے کم اور خالق کے حضور زیادہ رکھتا ہے۔ یہی خاموشی اس کا وقار بنتی ہے اور یہی ضبط اس کے باطن کو مضبوط کرتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ اللہ سے کہی گئی بات دل کو ہلکا کر دیتی ہے، جبکہ لوگوں سے کہی گئی بات اکثر دل کو اور بوجھل کر دیتی ہے۔
آخر میں سالک ہمیشہ انجام کو پیشِ نظر رکھتا ہے۔ صبر کا پھل فوری نہیں ملتا، مگر وہ کبھی ضائع نہیں ہوتا۔ کبھی یہ سکونِ قلب کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، کبھی معرفت کے دروازے کھل جاتے ہیں، اور کبھی انسان ایسی بلندی پر پہنچ جاتا ہے جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ یہی یقین سالک کو ہر حال میں ثابت قدم رکھتا ہے۔
یوں صبر سالک کی زندگی میں محض ایک صفت نہیں بلکہ پورا طرزِ حیات بن جاتا ہے۔ یہ وہ زادِ راہ ہے جس کے بغیر نہ سفر مکمل ہوتا ہے اور نہ منزل روشن ہوتی ہے۔
