ماہانہ محفوظات: دسمبر 2025

قوم کے معمار یا قوم کے مجرم…؟ — ایک لرزا دینے والا سوال

گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک وڈیو وائرل ہوئی جس نے ہر حساس دل رکھنے والے پاکستانی کو ہلا کر رکھ دیا۔ علامہ محمد اقبال، جس کی فکر نے غلامی کی زنجیریں توڑنے کے لیے ایک پوری امت کے ذہنوں میں خودی کی آگ بھڑکائی، جس نے خواب دیکھے اور ایک آزاد وطن کے حصول کا تصور دیا، اسی مردِ فکر و دانش کے مجسمے کے ساتھ شرمناک اور تکلیف دہ سلوک کیا گیا۔ چند کم سن بچے مجسمے پر چڑھے ہوئے تھے، اس کے چہرے پر تھپڑ مار رہے تھے، اس کی بے قدری کر رہے تھے، اور المیہ یہ کہ قریب کھڑے بڑے اس تماشے سے نہ صرف لطف اندوز ہو رہے تھے بلکہ ہنس رہے تھے۔ ایک حساس شخص نے جب بچوں سے پوچھا کہ تم ایسا کیوں کر رہے ہو تو جواب ملا: “یہ ہمارے لیے پڑھائی چھوڑ کر گیا ہے!”

پڑھنا جاری رکھیں

صبر۔۔۔۔ اور سالک کے لیے راہ عمل

سالک کا سفر محض خارجی عبادات یا رسمی اعمال کا نام نہیں، بلکہ یہ دل کے اندر ایک مسلسل جدوجہد ہے جس کا اصل سرمایہ صبر ہے۔ صبر وہ چراغ ہے جو سالک کے باطن میں جلتا ہے تو راستے کی تاریکیاں خود بخود چھٹنے لگتی ہیں۔ دراصل صبر کو عام طور پر محض برداشت سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ سالک کے لیے صبر ایک زندہ عبادت، ایک باطنی مجاہدہ اور قربِ الٰہی کا مضبوط وسیلہ ہے۔ جب سالک اس حقیقت کو سمجھ لیتا ہے کہ صبر کمزوری نہیں بلکہ روح کی قوت ہے، تو آزمائشیں اس کے حوصلے کو توڑنے کے بجائے اسے نکھارنے لگتی ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں