یومیہ محفوظات: اکتوبر 23, 2025

جب باواجی حضورؒ نے انسانیت کی لاج رکھی

جب باواجی حضورؒ نے انسانیت کی لاج رکھی
(ایک سچا واقعہ، 1947ء کے شور و ہنگامے میں روشنی کی ایک کرن)

1947ء کا وہ ہنگامہ خیز زمانہ جب برصغیر کی زمین خون اور آنسوؤں سے تر ہو رہی تھی، جب مذہب، نسل اور انتقام کے نام پر انسان انسان کا دشمن بن چکا تھا — اُس تاریک عہد میں چند روشن دل ہستیاں ایسی بھی تھیں جنہوں نے انسانیت کی لو بجھنے نہیں دی۔ اُن میں سے ایک نام حضرت باواجی بہرام رنیالؒ کا ہے، جنہوں نے اپنے کردار سے ثابت کیا کہ ولایت صرف خانقاہوں تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ میدانِ عمل میں بھی اپنی سچائی منواتی ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

خواجہ سید محمد سلیمان گیلانی قادری چشتی نظامی

خواجہ سید محمدسلیمان شاہ گیلانی چشتی نظامی قادری سلسلہ چشتیہ قادریہ کے معروف بزرگان میں شمار ہوتے ہیں۔

تعارف

سید سلیمان شاہ گیلانی یکم اگست 1919ء کو کوئٹہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے بزرگ بغداد شریف سے ہجرت کر کے پہلے افغانستان اور پھر کوئٹہ ( بلوچستان) کے علاوہ صوبہ سرحد کے علاقوں رسالپور، چکنی اور آدم زئی ( نوشہرہ) میں آباد ہو گئے۔ لیکن بیسویں صدی میں کوئٹہ کے مشہور زلزلہ کے بعد آپ کے والد گرامی سید محمد رحیم شاہ ایک میں مقیم ہو گئے اور محکمہ تعلیم میں ملازمت کا آغاز کیا اور خاصے عرصہ تک گورنمنٹ پائلٹ اسکول میں بطور مدرس خدمات انجام دیتے رہے۔[1]

پڑھنا جاری رکھیں