ماہانہ محفوظات: اکتوبر 2025

سید شاکرالقادری چشتی نظامی

سید شاکر القادری (پیدائش: 1960ء، اٹک، پاکستان) پاکستانی نعت گو شاعر، محقق، نقاد، خطاط، مترجم اور اردو ٹائپوگرافی کے ماہر ہیں۔وہ فروغِ نعت کے لیے معروف ہیں اور آن لائن نعتیہ پلیٹ فارم فروغِ نعت فیس بک گروپ اور نعت کائنات کے بانی مدیران میں سے ہیں۔ شاکر القادری نے نعتیہ ادب، اردو فونٹ سازی اور سافٹ ویئر کے اردو مقامیانے کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ اردو محفل پر انھوں نے فانٹ سازی اور سافٹ ویرز کو مقامیانے میں قابل قدر خدمات انجام دی ہیں [1][2]

پڑھنا جاری رکھیں

شیخ ابو بکر عبد العزیز بن سیدنا عبدالقادر جیلانی

شیخ ابو بکرعبد العزیزشیخ عبدالقادر جیلانی کے فرزندِ ارجمند ہیں۔ آپ  532ھ بمطابق 1137ء بغداد میں پیدا ہوئے۔آپ کی تعلیم و تربیت اپنے والد ماجد سیدنا غوث الاعظمؒ کے ہی مبارک ہاتھوں میں ہوئی۔ اپنے والد گرامی سے فقہ و حدیث کی تکمیلِ کی۔آپ بلند پایہ مفتی اور واعظ تھے اپنے والد کے مدرسہ میں درس دیتے رہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

جب باواجی حضورؒ نے انسانیت کی لاج رکھی

جب باواجی حضورؒ نے انسانیت کی لاج رکھی
(ایک سچا واقعہ، 1947ء کے شور و ہنگامے میں روشنی کی ایک کرن)

1947ء کا وہ ہنگامہ خیز زمانہ جب برصغیر کی زمین خون اور آنسوؤں سے تر ہو رہی تھی، جب مذہب، نسل اور انتقام کے نام پر انسان انسان کا دشمن بن چکا تھا — اُس تاریک عہد میں چند روشن دل ہستیاں ایسی بھی تھیں جنہوں نے انسانیت کی لو بجھنے نہیں دی۔ اُن میں سے ایک نام حضرت باواجی بہرام رنیالؒ کا ہے، جنہوں نے اپنے کردار سے ثابت کیا کہ ولایت صرف خانقاہوں تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ میدانِ عمل میں بھی اپنی سچائی منواتی ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

خواجہ سید محمد سلیمان گیلانی قادری چشتی نظامی

خواجہ سید محمدسلیمان شاہ گیلانی چشتی نظامی قادری سلسلہ چشتیہ قادریہ کے معروف بزرگان میں شمار ہوتے ہیں۔

تعارف

سید سلیمان شاہ گیلانی یکم اگست 1919ء کو کوئٹہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے بزرگ بغداد شریف سے ہجرت کر کے پہلے افغانستان اور پھر کوئٹہ ( بلوچستان) کے علاوہ صوبہ سرحد کے علاقوں رسالپور، چکنی اور آدم زئی ( نوشہرہ) میں آباد ہو گئے۔ لیکن بیسویں صدی میں کوئٹہ کے مشہور زلزلہ کے بعد آپ کے والد گرامی سید محمد رحیم شاہ ایک میں مقیم ہو گئے اور محکمہ تعلیم میں ملازمت کا آغاز کیا اور خاصے عرصہ تک گورنمنٹ پائلٹ اسکول میں بطور مدرس خدمات انجام دیتے رہے۔[1]

پڑھنا جاری رکھیں