ماہانہ محفوظات: اپریل 2024

حضرت عبدالعزیز الگیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد سے نقباء و سجادہ نشینان

السید الشیخ صاحب التلوین والتمکین حضرت زین الدین ابن الشریف سید نا محمد شرف الدین بن سیدنا شمس العارفین حضرت شمس الدین بن سیدنا صاحب المسو والسما حسیب النسیب محمد الہتاک ابن الشریف سیدنا الامام التقی المقتدی الاقطار الاعلی المنار الابریز حضرت عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہم بن حضرت محبوب سبحانی قطب ربانی غوث صمدانی شیخ الکل سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ العزیز مسلمانوں کے نقیب اور سرپرست ہوئے۔ انھوں نے اپنی ساری جائیداد درگاہ گیلانیہ اور مدرسہ جد امجد کے لیے ماہ رجب 978 ء میں وقف کر دی۔ آپ 891ھ بغداد کے محلہ باب الشیخ میں پیدا ہوئے۔ آپ نے اپنے زمانہ کے علما سے علوم عقلیہ و نقلیہ حاصل کیے۔ گیلانی خاندان کے سرپرست اور رئیس تھے۔ اوقاف قادریہ کے متولی بھی تھے۔ 914 ھ میں جب ایرانیوں نے بغداد کا محاصرہ کیا تو آپ ایرانیوں کے خلاف اپنی حکومت اور شہر کو بچانے کے لیے نکلے اور بہت زیادہ کوشش کی۔ پھر جب 941 میں جب کہ ایرانیوں کے قبضہ سے بغداد کو عثمانی لشکر واپس لے رہا تھا س وقت بھی آپ نے عثمانی لشکر کی جان و دل سے امداد کی۔ جس پر سلطنت عثمانیہ کو فتح نصیب ہوئی فاتح بادشاہ نے آپ کی خدمت بابرکت مین حاضر ہو کر شکریہ ادا کیا۔ چنانچہ اسی سال 20 رمضان المبارک کو سلطان سلیمان عثمانی معہ اپنی فوج اور دیگر افسران اور مفتی مملکت کے جامع مسجد گیلانیہ میں حاضر ہوئے۔ اور تمام علمائے بغداد کو طلب کیا اور بعد ادائے نمازعصر سند نقابت الاشراف آپ کو عطا فرمائی جو کہ ترکی زبان میں ہے جس کا ترجمہ حسب ذیل ہے:

مفخر السادات المکرم السید الشیخ زین الدین الگیلانی دام سیادتہ صحیح النسب سدات کی تصدیق و توثیق کرنے کے بعد شیخ زین الدین گیلانی دام برکاتہ کو نقابت الاشراف کی سند دیتا ہوں اور وصیت کرتا ہوں کہ شیخ زین الدین گیلانی شہر بغداد کے نقیب الاشراف ہیں اور جو شخص صحیح النسب سادات نہ ہو۔ اور نہ ہی اس کے پاس کوئی فرمان شاہی ہوگا وہ قوم کا سردار اور نقیب نہ سمجھا جائے گا جس شخص کے پاس نقابت الاشراف کی سند ہوگی وہی مستحق شاہی وظیفہ کا ہوگا۔
دستخط السلطان غازی سلیمان خانی قانونی

اس عثمانی سند کے بعد نقابت الاشراف کا سلسلہ جاری ہو گیا۔ چنانچہ خاندان گیلانیہ کے شرفا سلسلہ بہ سلسلہ اس منصب جلیلہ پر فائز ہوتے چلے آرہے ہیں اور تقریبا چار سول سال سے بلا انقطاع آج تک یہ سلسلہ جاری اور قائم ہے اور انشاء اللہ تا قیامت جاری و ساری رہے گا۔ خاندانِ گیلانیہ کے صحیح النسب سادات ہونے کے بہترین ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے؟

ماخوذ از تذکرہ قادریہ، از سیدنا طاہر علاؤ الدین الگیلانی البغدادی۔ ص : 100-102

جاری۔۔۔۔۔۔۔

حضرت حسن مثنیٰ کی اولاد

حسن‌ بن‌ حسن‌ بن‌ علی بن ابی‌ طالب (حیات تا سنہ 85 ھ)، حسن مثنی کے نام سے معروف، امام حسن علیہ السلام کے بیٹے ہیں۔ جن کی شادی امام حسین علیہ السلام کی بیٹی فاطمہ سے ہوئی۔ آپ حسنی / حسینی سادات کے بزرگ سمجھے جاتے ہیں۔

حسن مثنی کربلا کے میدان میں زخمی ہوئے اور آپ کے ماموں اسماء بن خارجہ فزاری کی حفاظت میں آئے۔ کوفہ میں انہی کی نگرانی میں صحت یاب ہوئے۔ اس کے بعد کوفہ سے مدینہ واپس آگئے۔

حجاج بن یوسف کے خلاف عبد الرحمان بن محمد بن اشعث کی شورش میں آپ نے عبد الرحمان کا ساتھ دیا۔ حسن مثنی اپنے زمانِ حیات میں حضرت علی علیہ السلام کے موقوفات کے متولی تھے۔۔ زیدیہ مکتب کے بعض مآخذ اور ملل و نحل کے علما نے انہیں زیدیوں کا امام قرار دیا ہے۔

آپ کے والد امام حسنؑ شیعوں کے دوسرے امام ہیں۔ آپ کی والدہ کا نام خَوْلَہ بنت منظور بن زَبّان فَزاری تھا۔[1] سنہ 36 ھ میں محمد بن طلحہ بن عبید اللہ کے جنگ جمل میں قتل ہونے کے بعد امام حسنؑ کے عقد میں آئیں۔[2] حسن مثنی کی کنیت ابو محمد تھی[3]۔

ازواج و اولاد

امام حسینؑ کی بیٹی فاطمہ آپ کی زوجہ تھیں۔ امام حسین نے واقعہ کربلا سے پہلے اپنی بیٹی کا عقد حسن مثنی سے کیا۔[4] جس کی تفصیل درج ذیل ہے:

حسن مثنی نے امام حسین ؑ سے ان کی بیٹیوں میں سے ایک بیٹی کا رشتہ مانگا۔[5] امام نے فرمایا: میری بیٹیوں فاطمہ اور سکینہ میں سے جسے چاہو انتخاب کر سکتے ہو۔ حسن مثنی نے شرم کی وجہ سے کچھ نہ کہا۔ لیکن امام نے فاطمہ کا عقد حسن مثنی سے کر دیا۔[6] ابن فندق کے بقول یہ شادی امام حسینؑ کی شہادت کے سال انجام پائی۔[7] امام حسینؑ کی شہادت سنہ 61 ہجری کی 10 محرم کو ہوئی۔ اس لحاظ سے زیادہ احتمال یہی ہے کہ عاشورا سے کچھ مدت پہلے 60 ہجری میں ہی مکہ میں انجام پائی۔ پس اس بنا پر حسن مثنی اپنی زوجہ فاطمہ بنت الحسین کے ہمراہ کربلا میں موجود تھے۔[8]

اولاد

حضرت فاطمہ سے ان کی اولاد عبد اللہ محض، ابراہیم عمر، حسن مثلث تھے۔ ان تینوں فرزندوں کی وفات عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور کے زندان میں ہوئی۔[9] پھر ان کے بعد عبد اللہ بن حسن ایک عالم اور ادیب شخص تھے جنہوں نے عباسیوں کے خلاف تحریکوں کی قیادت کی۔[10] نفس زکیہ کے نام سے مشہور ہونے والے محمد اور قتیل باخَمْرا کے نام سے مشہور ابراہیم بھی ان کی نسل میں سے ہیں۔

حسن مثنی کی اولاد کے بارے میں معلومات یہ ہیں:

 

حضرت امام حسن المجتبیٰ کی اولاد

 

فایل لایه باز تصویر ولادت امام حسن مجتبی (ع) / حسن بن علی المجتبی | عصر ...

الف. پسران: ابراهیم، ابوبکر، احمد، اسماعیل، جعفر، حسن اصغر، حسن مُثنّی، حمزه، زید، طلحه، عبد الرحمن‏، عبد اللّه‏، عبید اللّه‏، عقیل، عمرو، قاسم، محمد، و یعقوب.(۱)
ب. دختران: ام الحسن، ام الحسین(ام الخیر)، ام سلمه، ام عبد الله، رقیه، و فاطمه.(۲)

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

(۱)

 

طبری آملی، محمد بن جریر، دلائل الامامة، ص 164، قم، بعثت، چاپ اول، 1413ق؛ مناقب آل أبی‌طالب(ع)، ج ‏4، ص 29؛ الإرشاد فی معرفة حجج الله علی العباد، ج 2، ص 20؛ انساب الاشراف، ج ‏3، ص 73.

 

(۲)

 

الإرشاد فی معرفة حجج الله علی العباد، ج 2، ص 20؛ دلائل الإمامة، ص 164؛ اربلی، علی بن عیسی، کشف الغمة فی معرفة الأئمة، ج ‏1، ص 538 – 539، قم، منشورات رضی، چاپ اول، 1421ق؛ أنساب الأشراف، ج ‏3، ص 73. 

حضرت حسن مثنی بن امام حسن المجتبی

  1. حسن مثنیٰ کی ولادت: حسن مثنیٰ کی ولادت 12 رمضان، 29ھ قمری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ ان کے والد امام حسن بن علیؑ اور دادا حضرت علی بن ابی طالبؑ تھے۔
  2. خلافت و بیعت: حسن مثنیٰ نے اپنے والد سیدنا امام حسنؑ سے بیعت کی اور خلافت حاصل کی۔ ان کی خلافت کا دور کئی مشکلات اور فتنوں سے بھرا ہوا تھا۔
  3. علمی مقام: حسن مثنیٰ علمی اور دینی معارف کے ماہر تھے۔ انہوں نے حدیث کی تعلیم حاصل کی اور اپنے علمی مقام کو برقرار رکھا۔
  4. مدافعت کربلا میں: حسن مثنیٰ کی شجاعت کا مثال زندگی کی واقعہ کربلا میں دی گئی مدافعت میں آئی۔ انہوں نے حضرت عثمانؑ کی حفاظت کے لئے بھی جان کی قربانی دی اور باغیوں کو روکا۔
  5. نسب نامہ: حسن مثنیٰ کی نسبت امام حسن بن علی بن ابی طالب سے ہے۔ ان کا خاندانی شجرہ حسن بن علی سے شروع ہوکر عدنان تک جاتا ہے۔
  6. حسن مثنیٰ کی زندگی ایک مثالی طریقہ زندگی کا نمائندہ ہے جو اسلامی تاریخ میں اہمیت رکھتی ہے۔