قوم کے معمار یا قوم کے مجرم…؟ — ایک لرزا دینے والا سوال

گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک وڈیو وائرل ہوئی جس نے ہر حساس دل رکھنے والے پاکستانی کو ہلا کر رکھ دیا۔ علامہ محمد اقبال، جس کی فکر نے غلامی کی زنجیریں توڑنے کے لیے ایک پوری امت کے ذہنوں میں خودی کی آگ بھڑکائی، جس نے خواب دیکھے اور ایک آزاد وطن کے حصول کا تصور دیا، اسی مردِ فکر و دانش کے مجسمے کے ساتھ شرمناک اور تکلیف دہ سلوک کیا گیا۔ چند کم سن بچے مجسمے پر چڑھے ہوئے تھے، اس کے چہرے پر تھپڑ مار رہے تھے، اس کی بے قدری کر رہے تھے، اور المیہ یہ کہ قریب کھڑے بڑے اس تماشے سے نہ صرف لطف اندوز ہو رہے تھے بلکہ ہنس رہے تھے۔ ایک حساس شخص نے جب بچوں سے پوچھا کہ تم ایسا کیوں کر رہے ہو تو جواب ملا: “یہ ہمارے لیے پڑھائی چھوڑ کر گیا ہے!”

یہ الفاظ محض بچے کی زبان سے ادا ہونے والا ایک جملہ نہیں، یہ ہماری پوری سماجی، تعلیمی، اخلاقی اور فکری شکست کا نوحہ ہے۔ یہ جملہ ہمارے نظامِ تعلیم کی ناکامی، ہمارے معاشرتی رویوں کے انتشار، ہمارے قومی شعور کے فقدان اور ہمارے سیاسی ماحول کی زہر آلودگی کی گواہی دے رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر بچے ایسا کیوں کہہ رہے ہیں؟ وہ قومی ہیروز کو طنز و تمسخر کا نشانہ کیوں بنا رہے ہیں؟ وہ جن چہروں سے محبت، فخر اور احترام سیکھنا چاہیے تھا، انہی کا مذاق کیوں اڑا رہے ہیں؟

قومیں تب تباہ ہوتی ہیں جب ان کی تاریخ مر جاتی ہے

یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی قوم کی شناحت اس کی تاریخ، اس کے ہیروز، اس کی فکری اساس اور اخلاقی قدروں سے بنتی ہے۔ جس قوم کے بچے اپنے ہی محسنوں کا احترام نہ کریں، اپنی فکری بنیاد سے کٹ جائیں، اپنے ہیروز کی قربانیوں اور خدمات سے ناواقف ہوں، وہ قوم مستقبل میں کیا کردار ادا کرے گی؟ کیا وہ دنیا میں عزت سے سر اٹھا کر جی سکے گی؟ کیا وہ ترقی کی دوڑ میں قدم ملا سکے گی؟ یقیناً نہیں۔

ہمارے ہاں بچوں کو قومی ہیروز سے متعارف کرانے کے بجائے یا تو بے جان نصابی جملے رٹائے جاتے ہیں، یا پھر انہیں سیاست، نفرت، تعصب اور انتشار کے ہاتھوں کھیلنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ نئی نسل نہ تو اقبال کو سمجھتی ہے، نہ قائداعظم کو جانتی ہے، نہ سرسید کو پہچانتی ہے، نہ شہدا کی قربانیوں کی عظمت سے واقف ہے۔ وہ صرف یہ دیکھتی ہے کہ اس کے اردگرد بددیانتی ہے، ناانصافی ہے، بے قدری ہے، نفرت ہے اور طاقت کی حکمرانی ہے۔ وہ جب شعوری عمر تک پہنچتی ہے تو اس کے ذہن میں “احترام” کی جگہ “مزاح” اور “نفرت” نے لے لی ہوتی ہے۔

قصور وار کون ہے؟

یہ سوال بہت بڑا ہے اور اس کا جواب آسان نہیں۔ کیا اس کے مجرم صرف بچے ہیں؟ یقینا نہیں۔ اس جرم کے اصل ذمہ دار ہم سب ہیں۔

ہماری تعلیمی پالیسیاں جو برسوں سے تجربہ گاہ بن چکی ہیں، وہ نصاب ساز جو صرف کتابی بوجھ بڑھاتے رہے لیکن کردار سازی، شعور، فکر اور اخلاقیات کو نظرانداز کرتے رہے۔ ہمارے تعلیمی ادارے، جہاں علم کے بجائے ڈگریوں کی دوڑ ہے، اساتذہ جن میں سے بڑی تعداد تدریس کو مقدس ذمہ داری کے بجائے محض ملازمت سمجھتی ہے۔ والدین جو اپنی اولاد کو صرف ڈاکٹر، انجینئر یا افسر بنانا چاہتے ہیں مگر انسان نہیں بناتے۔

اور اس سب سے بڑھ کر ہمارے سیاست دان… جنہوں نے گزشتہ دو دہائیوں سے سیاست کو خدمت کے بجائے نفرت، تقسیم اور انتشار کا کھیل بنا دیا۔ نوجوانوں کو شعور دینے کے بجائے ان کے ذہنوں میں نفرت کے بیج بوئے گئے۔ انہیں دوسرے مخالفین سے اختلاف کے بجائے دشمنی سکھائی گئی۔ زبانوں کو شائستگی کے بجائے بداخلاقی دی گئی۔ اسی ذہن کی پیداوار 9 مئی جیسے شرمناک واقعات ہیں جنہوں نے پوری قوم کو ہلا دیا۔ شہدا کے مجسموں کی توہین کی گئی، قومی یادگاروں کو نقصان پہنچایا گیا، اور اب یہ زہر نئی نسل کے معصوم ذہنوں تک سرایت کر چکا ہے، یہاں تک کہ معاملہ علامہ اقبال کے مجسمے تک جا پہنچا ہے۔

معاشرہ جب بچوں کو کھو دیتا ہے تو اپنا مستقبل کھو دیتا ہے

بچے کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ وہی کل کے ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان، لیڈر، استاد اور محافظ ہوتے ہیں۔ لیکن اگر آج وہ شعوری طور پر اس سطح پر ہوں کہ وہ اپنے ہی قومی ہیروز کا مذاق اڑائیں، شہدا کی قربانیوں کو بے وقعت سمجھیں، اپنی تاریخ سے نفرت کریں اور اپنی قوم کے نظریے سے بیزار ہوں تو کیا ہم امید رکھ سکتے ہیں کہ یہی نسل کل وطن عزیز کی بے لوث خدمت کرے گی؟ کیا یہ لوگ قربانی دیں گے؟ کیا یہ لوگ دیانت دار ہوں گے؟ کیا یہ لوگ وطن کو اپنی ماں سمجھیں گے؟

جو بچے اپنے محسنوں کے مجسمے پر تھپڑ مار رہے ہوں، وہ کل حقیقت میں اپنے نظریات، اپنے اخلاق، اور اپنے کردار پر بھی تھپڑ ماریں گے۔ اور پھر ایسے معاشرے کو کوئی بیرونی دشمن تباہ نہیں کرتا، وہ خود اپنے ہاتھوں اپنی بنیادیں گرا دیتا ہے۔

ہمیں کیا کرنا ہوگا؟

سب سے پہلے ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ ہم اجتماعی طور پر ناکام ہوئے ہیں۔

ہمیں اپنی تعلیمی پالیسیوں کو ازسرِنو ترتیب دینا ہوگا۔ نصاب میں صرف معلومات نہیں بلکہ شعور، اخلاق، کردار سازی، اور قومی شعور کو بنیادی حصہ بنانا ہوگا۔ اقبال کو محض سبق کے چند اشعار نہیں بلکہ “فکرِ اقبال” کے طور پر پڑھانا ہوگا۔ قائد اعظم کو تاریخ کے باب کے طور پر نہیں بلکہ اصولوں، دیانت، قانون کی پاسداری اور جدوجہد کی علامت کے طور پر متعارف کرانا ہوگا۔ شہدا کی قربانیوں کو محض تقاریر نہیں، عملی مثالوں کے ذریعے بچوں کے دلوں تک پہنچانا ہوگا۔

اساتذہ کو صرف پڑھانے کے لیے نہیں بلکہ شخصیت سازی کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ والدین کو اپنی اولاد کے اخلاقی و فکری تربیت پر توجہ دینی ہوگی۔ سیاسی قیادت کو احساس کرنا ہوگا کہ وہ قوموں کے ذہن بناتی ہے۔ انہیں نفرت نہیں، برداشت، مکالمہ اور احترام سکھانا ہوگا۔

ورنہ یاد رکھیں…

اگر ہم نے آج بھی ارتعاش محسوس نہ کیا، اگر ہم نے آج بھی خود احتسابی نہ کی، اگر ہم نے آج بھی اپنی نسلوں کو ٹھیک نہ کیا تو آنے والا وقت مزید بھیانک ہوگا۔ پھر صرف مجسمے نہیں ٹوٹیں گے، پھر نظریے ٹوٹیں گے، ایمان ٹوٹے گا، کردار ٹوٹے گا، قوم بکھر جائے گی۔

اب بھی وقت ہے کہ ہم سنبھل جائیں۔ اپنے بچوں کے ہاتھوں سے نفرت کے پتھر لے کر انہیں محبت، شعور، احترام اور خدمت کے پھول تھمائیں۔ انہیں بتائیں کہ اقبال تمہارا دشمن نہیں، تمہاری پہچان ہے۔ شہدا تمہاری ترقی کے رکاوٹ نہیں، تمہاری حفاظت کے ضامن ہیں۔ یہ وطن کوئی قید خانہ نہیں، تمہارا گھر ہے، تمہاری عزت ہے، تمہارا مستقبل ہے۔

اگر ہم یہ کر سکے تو امید ہے کہ ایک دن یہی بچے انہی مجسموں کے قدموں میں کھڑے ہو کر صرف احترام ہی نہیں، اپنی وفاداری، محبت اور خدمت کا عہد بھی کریں گے۔ لیکن اگر ہم نے خاموشی، لاپرواہی اور بے حسی ہی کو اپنا شعار بنائے رکھا تو پھر آنے والی نسل ہمیں معاف نہیں کرے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور شاید تاریخ بھی نہیں۔

#شاکرالقادری

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے